preloader
<strong>ڈینگی الرٹ </strong>

ڈینگی الرٹ

تباہ کن بارشیں اپنے ساتھ بہت سی بیماریاں لے کرآئی ہیں جن میں ڈینگی، حیضہ اور جلد کے انفیکشن شامل ہیں۔ ڈینگی کے مریضوں میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک وائرل انفیکشن ہے جو مچھروں کے ذریعے پھیلتا ہے اور عموما زیادہ آبادی والے علاقوں میں ہوتا ہے جہاں صفائی کا فقدان اور گندا پانی جمع رہتا ہے۔

ڈینگی کی علامات

ڈینگی کی شروعات بخار کے مرحلے سے ہوتی ہے جس کی علامات درج ذیل ہیں

تیز بخار •   
سر میں درد •   
جسم اور جوڑوں میں درد •   
جسم پر سرخ دھبوں کا رونما ہونا•   
الٹی کا ہونا •   
دست ہونا •   
معدے میں درد •   

اس کے بعد کچھ مریض آہستہ آہستہ صحت یاب ہونے لگتے ہیں اور کچھ خطرناک مرحلے میں
:داخل ہوجاتے ہیں جس کی علامات درج ذیل ہیں

پیٹ میں درد •  
بے تحاشہ الٹیاں ہونا •  
جسم میں سوجن کا ہونا •  
جسم کے مختلف حصوں سےخون کا    اخراج  •  

  پانی کی شدید کمی •  

بیہو شی یا غنودگی طاری ہونا •  

اگر ڈینگی کا ٹھیک طرح سے علاج نہ کیا جائے تو بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں اور انسان موت کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

ڈینگی کا علاج کیسے کیا جائے

 مریض کو مکمل آرام کرنا چاہیے۔    

بخار کے لئے پیناڈول دی جاتی ہے۔ دیگر درد کش ادویات سے پرہیز کریں۔    
 اگر بخار کم  نہ ہو تو پٹیاں کرنی چاہیے ۔     

مشروبات کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیئے جیسے پھلوں کے جوس او آر ایس وغیرہ •    
پپیتے کے پتوں کا پانی بیماری کے دورانیے کو کم کرتا ہے ۔مارکیٹ میں اس کے •    
تیار شدہ سیرپ اور گولیاں دستیاب ہیں۔      
 کسی ماہر معالج سے فالوآپ کرانا ضروری ہے ۔ اگر خون کا اخراج ہو •     

بہت الٹیاں ہوں، پانی کی کمی کی علامات ہوں (جیسےہونٹون اور زبان ک •     

ا خشک ہونا، آنسو        خشک ہونا ، آنکھوں کا دھنسنا ، پیشاب میں کمی وغیرہ)     
اور بہت زیادہ کمزوری ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔     

ڈینگی سے بچاؤ کے لئے اقدامات

جسم کے کھلے حصوں پر مچھروں سے بچاؤ کی دوائی لگائیں•   
پوری آستین والے کپڑے پہنیں •   
پانی کے کنستروں کو کھلا نہ رکھیں 
•   
کھڑکی پر جالی لگائیں تاکہ مچھر داخل نہ ہو سکیں •   
گھر اور محلے میں مچھرمار اسپرے کریں •   

ڈینگی کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کرنا اور اس کے بچاؤ کے اقدامات کرنا بہت ضروری ہے تاکہ اس بیماری اور اس کی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

ڈاکٹر سارہ ذاکر 

Author

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *